نابالغ وارثین کے لیے جائیداد کا سرپرست (گارڈین) کیسے مقرر کریں
نابالغ وارثین کے لیے جائیداد کا سرپرست (گارڈین) کیسے مقرر کریں
جس گھر میں وفات ہوئی ہو اور ورثاء میں کوئی نابالغ بچہ شامل ہو، وہاں معاملہ فوراً پیچیدہ ہو جاتا ہے۔ نادرا کا سکسیشن فیسیلیٹیشن یونٹ (SFU) نابالغ وارث کی بایومیٹرک تصدیق نہیں لے سکتا، اس لیے درخواست خود بخود رک جاتی ہے۔ بینک اکاؤنٹ کا حصہ منجمد رہتا ہے، جائیداد کا انتقال نہیں ہو پاتا، اور خاندان کو سمجھ نہیں آتی کہ کس دفتر سے رجوع کریں۔ حل ایک ہی ہے: عدالت سے نابالغ کی جائیداد کے لیے باقاعدہ سرپرست (Guardian) مقرر کروانا۔
دو مختلف قسم کی سرپرستی — الجھن دور کریں
پاکستانی قانون میں سرپرستی کی دو الگ اقسام ہیں اور انہیں گڈمڈ نہ کریں:
- ذاتی سرپرستی (Guardianship of Person): بچے کی پرورش، تعلیم اور روزمرہ دیکھ بھال کا حق — یہ عام طور پر ماں یا قریبی رشتہ دار کے پاس خود بخود چلا جاتا ہے۔
- جائیداد کی سرپرستی (Guardianship of Property): نابالغ کے وراثتی حصے (بینک بیلنس، جائیداد، سرمایہ کاری) کے انتظام کا قانونی اختیار — یہی وہ سرٹیفکیٹ ہے جو سول کورٹ سے حاصل کرنا ضروری ہے تاکہ بینک اور نادرا نابالغ کا حصہ جاری کر سکیں۔
اگر آپ کو صرف بچے کی وراثتی رقم یا جائیداد نکلوانی ہے تو آپ کو دوسری قسم — جائیداد کی سرپرستی — درکار ہے۔ اس کی بنیاد "گارڈین اینڈ وارڈز ایکٹ 1890" ہے، جو آج بھی پاکستان بھر کی سول اور فیملی کورٹس میں لاگو ہوتا ہے۔
سرپرست مقرر کروانے کا طریقہ کار
- درخواست دائر کریں: بچے کے قریبی بالغ رشتہ دار (عام طور پر والدہ یا دادا) متعلقہ ضلع کی سول یا فیملی کورٹ میں گارڈین شپ پٹیشن دائر کرتا ہے۔
- درکار دستاویزات: نابالغ کا برتھ سرٹیفکیٹ یا B-Form، متوفی کا کمپیوٹرائزڈ ڈیتھ سرٹیفکیٹ، فیملی رجسٹریشن سرٹیفکیٹ (FRC)، درخواست گزار کا CNIC، اور جائیداد کی تفصیل (بینک اکاؤنٹ نمبر، پراپرٹی کا فرد وغیرہ)۔
- عدالتی نوٹس: عدالت دیگر ورثاء اور متعلقہ اداروں کو نوٹس جاری کرتی ہے تاکہ کوئی اعتراض ہو تو سامنے آ سکے۔
- سماعت اور تصدیق: جج درخواست گزار کی اہلیت اور بچے کے مفاد کا جائزہ لیتا ہے — خاص طور پر یہ کہ جائیداد کا غلط استعمال نہ ہو۔
- گارڈین شپ سرٹیفکیٹ کا اجراء: غیر متنازع کیسز میں یہ عمل عام طور پر 2 سے 4 ماہ میں مکمل ہو جاتا ہے۔ اگر کوئی رشتہ دار اعتراض کرے تو یہ مدت طویل ہو سکتی ہے۔
متوقع اخراجات: عدالتی فیس چند سو سے دو ہزار روپے کے درمیان رہتی ہے، جبکہ وکیل کی فیس عام طور پر 20,000 سے 40,000 روپے کے درمیان ہوتی ہے — البتہ غیر متنازع کیسز میں بہت سے والدین یہ درخواست خود بھی دائر کر لیتے ہیں۔
نادرا اور بینکوں کا رویہ نابالغ وارثین کے ساتھ
جب تک نابالغ بالغ نہیں ہوتا، اس کا وراثتی حصہ مکمل طور پر آزادانہ استعمال کے لیے جاری نہیں کیا جاتا:
- بینک اکاؤنٹس: نابالغ کا حصہ عدالتی حکم کے تحت "فکسڈ کسٹڈی" میں رکھا جاتا ہے۔ گارڈین صرف عدالت کی اجازت سے تعلیم یا ضرورت کے اخراجات کے لیے رقم نکلوا سکتا ہے، پوری رقم نہیں۔
- DHA اور ہاؤسنگ سوسائٹیز: خوش قسمتی سے، ڈی ایچ اے جیسی سوسائٹیوں میں نابالغ وارث کو الاٹمنٹ لیٹر جمع کروانے کے لیے ذاتی طور پر حاضر ہونے کی ضرورت نہیں ہوتی — گارڈین یہ کام مکمل نمائندگی کے ساتھ کر سکتا ہے۔
- نادرا کا فرق: نادرا SFU مکمل طور پر متفقہ اور بالغ ورثاء کے کیسز کے لیے بنایا گیا ہے۔ نابالغ کی موجودگی کا مطلب ہے کہ درخواست خودکار طور پر سول کورٹ کے راستے پر منتقل ہو جائے گی، چاہے باقی سب ورثاء آپس میں متفق ہی کیوں نہ ہوں۔
مفت ڈاؤن لوڈ
Pakistan — Funeral Planning Checklist حاصل کریں
اس پورے مضمون کی پرنٹ ہونے والی چیک لسٹ — ساتھ میں ایکشن پلانز اور حوالہ جاتی گائیڈز، جنہیں آپ آج ہی استعمال کر سکتے ہیں۔
عام غلطیاں جن سے بچنا ضروری ہے
سب سے عام غلطی یہ ہے کہ خاندان نادرا SFU میں نابالغ وارث کا نام شامل کیے بغیر درخواست جمع کروانے کی کوشش کرتا ہے — یہ فوراً مسترد ہو جاتی ہے اور جمع کروائی گئی فیس ضائع ہو جاتی ہے۔ دوسری غلطی یہ ہے کہ گارڈین شپ سرٹیفکیٹ حاصل کیے بغیر بینک سے براہِ راست نابالغ کا حصہ نکلوانے کی کوشش کی جاتی ہے — کوئی بینک یہ رقم بغیر عدالتی سرٹیفکیٹ کے جاری نہیں کرے گا۔ سب سے بہتر ترتیب یہی ہے: پہلے گارڈین شپ سرٹیفکیٹ، پھر سکسیشن سرٹیفکیٹ کی درخواست، اور آخر میں بینک یا جائیداد کی منتقلی۔
اگر خاندان میں اتفاق موجود ہو اور صرف ایک نابالغ وارث ہونے کی وجہ سے کیس رکا ہو، تو گارڈین شپ کا یہ مرحلہ زیادہ پیچیدہ نہیں — بس اسے ٹالنا نہیں چاہیے، کیونکہ جتنی تاخیر ہوگی، جائیداد اور بینک اکاؤنٹس اتنے ہی عرصے تک منجمد رہیں گے۔
وفات کے فوراً بعد جو انتظامی ترتیب سب سے زیادہ الجھن پیدا کرتی ہے، وہ یہی ہے کہ کون سا دستاویزی مرحلہ پہلے مکمل کیا جائے۔ مکمل جنازہ و تدفین اور وراثتی رہنما میں تجہیز و تکفین سے لے کر جائیداد کی حتمی منتقلی تک کا ہر مرحلہ درست ترتیب اور دستاویزی چیک لسٹ کے ساتھ درج ہے۔
اگلا قدم
نابالغ وارث کی موجودگی کا مطلب یہ نہیں کہ خاندان کا معاملہ برسوں لٹک جائے گا — درست ترتیب اپنانے سے یہ عمل 2 سے 4 ماہ میں مکمل ہو سکتا ہے۔ اہم بات صرف یہ ہے کہ گارڈین شپ سرٹیفکیٹ کو نظر انداز نہ کیا جائے اور اسے سکسیشن کے عمل سے پہلے ہی حل کر لیا جائے۔ اگر خاندان میں کوئی تنازع موجود ہو یا جائیداد کی مالیت زیادہ ہو، تو تجربہ کار فیملی وکیل سے مشورہ لینا مناسب رہتا ہے تاکہ نابالغ کے مفاد کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
Pakistan — Funeral Planning Checklist مفت حاصل کریں
Pakistan — Funeral Planning Checklist ڈاؤن لوڈ کریں — چیک لسٹس، نمونوں اور ایکشن پلانز پر مشتمل پرنٹ ہونے والی گائیڈ، جسے آپ آج ہی استعمال کر سکتے ہیں۔