پاکستان میں وراثت کا قانون — اسلامی حصص کا حساب اور بیٹی کا حق
پاکستان میں وراثت کا قانون — اسلامی حصص کا حساب اور بیٹی کا حق
"ابو کی وفات ہو گئی — بیٹی کا حصہ کتنا ہے؟" — یہ سوال ہر پاکستانی خاندان میں تنازع کی جڑ بن جاتا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ زیادہ تر لوگ اسلامی وراثت کے اصولوں کو سنی سنائی باتوں پر سمجھتے ہیں اور حقیقی قانونی حصص سے ناواقف رہتے ہیں۔ پاکستان میں جائیداد کی تقسیم متوفی کے مذہب کے ذاتی قوانین کے مطابق ہوتی ہے — مسلمانوں کے لیے یہ اسلامی فرائض ہیں۔
بنیادی اصول: کون وارث ہے؟
اسلامی قانونِ وراثت میں ورثاء تین درجوں میں تقسیم ہوتے ہیں:
- ذوی الفروض — مقررہ حصے والے (بیوہ، والدین، بیٹیاں جب اکیلی ہوں)
- عصبات — بچا ہوا حصہ لینے والے (بیٹے، بھائی)
- ذوی الارحام — دور کے رشتہ دار (جب پہلے دو درجے نہ ہوں)
بیٹی کا حصہ — حقیقت بمقابلہ روایت
قرآن (سورہ النساء، آیت 11) میں واضح حکم ہے کہ بیٹی وارث ہے۔ مگر پاکستان میں ایک تلخ حقیقت یہ ہے کہ ایک تحقیق کے مطابق 70 فیصد سے زیادہ خواتین کو ان کا شرعی وراثتی حصہ نہیں ملتا۔
حنفی فقہ کے مطابق:
| صورتحال | بیٹی کا حصہ |
|---|---|
| اکیلی بیٹی (بغیر بیٹے) | کل جائیداد کا نصف (1/2) |
| دو یا زیادہ بیٹیاں (بغیر بیٹے) | کل جائیداد کا دو تہائی (2/3) آپس میں برابر |
| بیٹی + بیٹا | بیٹے کا حصہ بیٹی سے دوگنا (2:1 تناسب) |
جعفری فقہ (شیعہ) کا اہم فرق: جعفری فقہ میں اگر متوفی کی صرف ایک بیٹی ہے اور کوئی بیٹا نہیں، تو بیٹی کو نصف بطور فرض ملتا ہے اور بچا ہوا نصف بھی "رد" کے اصول کے تحت واپس بیٹی کو منتقل ہوتا ہے — یعنی عملاً بیٹی کو سب کچھ ملتا ہے (دیگر ذوی الفروض کے بعد)۔ حنفی فقہ میں بچا ہوا حصہ دور کے عصبات (مثلاً چچا، بھتیجے) کو جاتا ہے۔
بیوہ کا حصہ
| صورتحال | بیوہ کا حصہ |
|---|---|
| اولاد موجود ہو | 1/8 (تمام بیواؤں میں مساوی تقسیم) |
| اولاد نہ ہو | 1/4 |
ایک اہم بات: حنفی فقہ میں بیوہ کو غیر منقولہ جائیداد (زمین، مکان) سے حصہ ملتا ہے مگر اس کی تصریح متنازع رہی ہے۔ 2019 کی قانونی ترمیم کے بعد شیعہ فقہ میں بیوہ کا غیر منقولہ جائیداد سے حصہ واضح طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔
مفت ڈاؤن لوڈ
Pakistan — Estate Settlement Checklist حاصل کریں
اس پورے مضمون کی پرنٹ ہونے والی چیک لسٹ — ساتھ میں ایکشن پلانز اور حوالہ جاتی گائیڈز، جنہیں آپ آج ہی استعمال کر سکتے ہیں۔
حصص کا حساب: ایک عملی مثال
فرض کریں ایک شخص فوت ہوا جس کی کل جائیداد 1 کروڑ روپے ہے۔ ورثاء: بیوہ، 2 بیٹے، 1 بیٹی۔
- بیوہ: 1/8 = 12.5 لاکھ
- بچا ہوا: 87.5 لاکھ
- بیٹے اور بیٹی: 2:1 تناسب — ہر بیٹے کو 2 حصے، بیٹی کو 1 حصہ (کل 5 حصے)
- ہر بیٹا: 35 لاکھ
- بیٹی: 17.5 لاکھ
غیر مسلم شہریوں کے قوانین
پاکستانی عیسائیوں کے لیے سکسیشن ایکٹ 1925 لاگو ہوتا ہے — جس میں بیٹے اور بیٹی کا مساوی حصہ ہے اور کوئی صنفی فرق نہیں ہے۔ ہندوؤں کے لیے ذاتی رواج لاگو ہوتے ہیں۔
حقیقی تقسیم کیسے ہو؟
حصص کا حساب لگانا آسان ہے — مشکل یہ ہے کہ عملاً تقسیم کیسے ہو، خاص طور پر جب جائیداد ناقابلِ تقسیم ہو (مثلاً ایک مکان)۔ ایسی صورت میں یا تو فروخت کر کے رقم تقسیم ہوتی ہے، یا ایک وارث دوسروں کو ان کا حصہ نقد ادا کرتا ہے۔
مکمل وراثت و جائیداد تقسیم گائیڈ میں ہر مسلک کے حصص کے تفصیلی جدول، عملی مثالیں، اور خاندانی تنازعات سے بچنے کی حکمت عملی شامل ہے۔
Pakistan — Estate Settlement Checklist مفت حاصل کریں
Pakistan — Estate Settlement Checklist ڈاؤن لوڈ کریں — چیک لسٹس، نمونوں اور ایکشن پلانز پر مشتمل پرنٹ ہونے والی گائیڈ، جسے آپ آج ہی استعمال کر سکتے ہیں۔