قومی بچت سرٹیفکیٹ کلیم اور نامزد شخص بمقابلہ ورثا کا قانون
قومی بچت سرٹیفکیٹ کلیم اور نامزد شخص بمقابلہ ورثا کا قانون
خاندان میں اکثر یہ غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ جس شخص کا نام قومی بچت سرٹیفکیٹ یا بینک اکاؤنٹ میں بطور "نامزد شخص" (Nominee) درج ہے، وہی پوری رقم کا مالک بن جاتا ہے۔ یہی غلط فہمی خاندانوں میں سب سے زیادہ جھگڑوں کی بنیاد بنتی ہے — کیونکہ پاکستانی قانون کے تحت نامزد شخص محض رقم وصول کرنے کا نمائندہ ہوتا ہے، حتمی مالک نہیں۔
نامزد شخص (Nominee) کیا ہے — اور کیا نہیں؟
عدالتی نظائر اور اسٹیٹ بینک کی گائیڈ لائنز واضح طور پر بیان کرتی ہیں کہ نامزد شخص صرف ایک امانتی نمائندہ (Trustee) ہے، مالک نہیں۔ اس کا مطلب ہے:
- نامزد شخص بینک یا نیشنل سیونگز سنٹر سے رقم وصول کر سکتا ہے تاکہ فوری طور پر خاندان کے اخراجات پورے ہو سکیں
- مگر قانوناً وہ یہ رقم تمام شرعی ورثاء (شریک حیات، اولاد، والدین) میں ان کے مقررہ حصوں کے مطابق تقسیم کرنے کا پابند ہے
- اگر نامزد شخص رقم اپنے پاس رکھ لے اور تقسیم نہ کرے، تو دیگر ورثاء اس کے خلاف سول کورٹ میں دعویٰ دائر کر سکتے ہیں
یہ اصول صرف قومی بچت سرٹیفکیٹس تک محدود نہیں — بینک اکاؤنٹس اور انشورنس پالیسیوں میں نامزد شخص پر بھی یہی قانون لاگو ہوتا ہے۔ صرف ایک استثناء ہے: اگر متوفی کی وصیت میں واضح طور پر نامزد شخص کو اضافی حصہ دینے کی ہدایت ہو، تب بھی وہ حصہ شریعت کے مقرر کردہ ایک تہائی (1/3) کی حد سے تجاوز نہیں کر سکتا۔
قومی بچت سرٹیفکیٹ کلیم کرنے کا طریقہ کار
- کمپیوٹرائزڈ ڈیتھ سرٹیفکیٹ حاصل کریں — یونین کونسل سے۔
- متعلقہ نیشنل سیونگز سنٹر سے رابطہ کریں — جہاں سرٹیفکیٹ اصل میں خریدا گیا تھا۔
- درکار دستاویزات جمع کروائیں:
- اصل قومی بچت سرٹیفکیٹ یا اکاؤنٹ پاس بک
- متوفی کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ
- نامزد شخص کا CNIC (اگر نامزدگی موجود ہو)
- اگر نامزدگی موجود نہ ہو یا رقم ایک مقررہ حد سے زیادہ ہو، تو سکسیشن سرٹیفکیٹ لازمی درکار ہوگا
- کلیم فارم مکمل کریں — نیشنل سیونگز سنٹر کا اپنا مخصوص کلیم فارم ہوتا ہے جو موقع پر دستیاب ہوتا ہے۔
- رقم کی وصولی — اگر نامزدگی درست اور دستاویزات مکمل ہوں تو رقم عام طور پر چند ہفتوں میں جاری ہو جاتی ہے۔
اہم نکتہ: اگر سرٹیفکیٹ میں کوئی نامزد شخص درج نہیں، تو نیشنل سیونگز سنٹر رقم جاری کرنے کے لیے نادرا یا عدالت کا سکسیشن سرٹیفکیٹ لازمی طلب کرے گا — چاہے رقم کتنی ہی کم کیوں نہ ہو۔
غیر فعال (Dormant) سرٹیفکیٹس کا قانون
اگر کوئی قومی بچت سرٹیفکیٹ یا بینک اکاؤنٹ مسلسل 10 سال تک غیر دعویٰ شدہ رہے، تو بینکنگ آرڈیننس کے تحت وہ رقم اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو سرنڈر کر دی جاتی ہے۔ اس کے بعد بھی ورثاء اپنا حق ضائع نہیں کرتے — انہیں براہِ راست اسٹیٹ بینک میں "غیر دعویٰ شدہ فنڈز" (Unclaimed Deposits) کا الگ کلیم دائر کرنا پڑتا ہے، جس کے لیے وہی سکسیشن سرٹیفکیٹ اور دیگر شناختی دستاویزات درکار ہوتی ہیں۔ اسی لیے متوفی کے تمام پرانے سرٹیفکیٹس، بانڈز اور بینک ریکارڈ کی فہرست جلد از جلد تیار کر لینا ضروری ہے — کاغذات جتنے پرانے ہوں گے، تلاش اتنی ہی مشکل ہو جاتی ہے۔
مفت ڈاؤن لوڈ
Pakistan — Funeral Planning Checklist حاصل کریں
اس پورے مضمون کی پرنٹ ہونے والی چیک لسٹ — ساتھ میں ایکشن پلانز اور حوالہ جاتی گائیڈز، جنہیں آپ آج ہی استعمال کر سکتے ہیں۔
خاندانی تنازع سے کیسے بچیں
نامزد شخص بمقابلہ ورثا کا مسئلہ اکثر اس وقت شدت اختیار کر جاتا ہے جب نامزد شخص رقم وصول کرنے کے بعد اسے تقسیم کرنے میں تاخیر کرتا ہے۔ اس سے بچنے کے لیے:
- رقم وصول ہوتے ہی تمام ورثاء کو تحریری طور پر مطلع کریں
- شریعت کے مطابق حصوں کا حساب پہلے سے واضح کر لیں (اگر ضرورت ہو تو کسی عالم یا وکیل سے تصدیق کروا لیں)
- تقسیم کی رقم اور تاریخ کا تحریری ریکارڈ رکھیں تاکہ بعد میں کوئی اختلاف نہ ہو
یہ احتیاطی تدابیر مستقبل میں سول کورٹ کے طویل مقدمات سے بچانے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اگر نامزد شخص رقم تقسیم کرنے سے انکار کر دے تو کیا ہوگا؟
دیگر ورثاء متعلقہ سول یا فیملی کورٹ میں تقسیم کا دعویٰ دائر کر سکتے ہیں۔ عدالت نامزد شخص کو ثابت شدہ حصوں کے مطابق رقم واپس تقسیم کرنے کا پابند کر سکتی ہے، اور جان بوجھ کر انکار کی صورت میں امانت میں خیانت کا مقدمہ بھی بن سکتا ہے۔
کیا شریک حیات یا بچوں کے علاوہ دیگر رشتہ دار بھی نامزد شخص بن سکتے ہیں؟
جی ہاں، قومی بچت سرٹیفکیٹ میں کوئی بھی بالغ فرد نامزد کیا جا سکتا ہے — لازمی نہیں کہ وہ قانونی وارث ہی ہو۔ مگر رقم کی حتمی تقسیم پھر بھی شرعی ورثاء ہی میں ہوگی، نامزد شخص کے ذاتی حصے کے علاوہ (اگر وہ خود بھی وارث ہو)۔
اگر سرٹیفکیٹ کی رقم کم ہو تو کیا سکسیشن سرٹیفکیٹ کے بغیر کلیم ممکن ہے؟
چھوٹی رقم کی صورت میں بعض نیشنل سیونگز سنٹرز انڈیمنٹی بانڈ اور خاندانی حلف نامے پر رقم جاری کر دیتے ہیں، مگر یہ حد وقتاً فوقتاً تبدیل ہوتی رہتی ہے — متعلقہ سنٹر سے تازہ ترین پالیسی کی تصدیق ضرور کر لیں۔
قومی بچت سرٹیفکیٹ کے علاوہ بھی بینک اکاؤنٹس، انشورنس پالیسیوں اور پنشن کے کلیمز میں نامزد شخص کا یہی قانونی اصول لاگو ہوتا ہے۔ مکمل جنازہ و تدفین اور وراثتی رہنما میں ہر قسم کے مالیاتی اثاثے کے لیے نامزدگی اور شرعی تقسیم کی مکمل رہنمائی، اور مطالبے کے فارمز کی تیار چیک لسٹ شامل ہے۔
اگلا قدم
اگر آپ نامزد شخص ہیں تو یاد رکھیں — یہ ذمہ داری ہے، مالکانہ حق نہیں۔ رقم کی وصولی کے فوراً بعد تمام شرعی ورثاء کے ساتھ شفاف انداز میں تقسیم کا عمل مکمل کریں تاکہ خاندانی تعلقات اور قانونی حیثیت دونوں محفوظ رہیں۔
Pakistan — Funeral Planning Checklist مفت حاصل کریں
Pakistan — Funeral Planning Checklist ڈاؤن لوڈ کریں — چیک لسٹس، نمونوں اور ایکشن پلانز پر مشتمل پرنٹ ہونے والی گائیڈ، جسے آپ آج ہی استعمال کر سکتے ہیں۔