$0 Pakistan — Funeral Planning Checklist

بیوہ کے لیے پاکستان میں وراثت کے حقوق اور دعویٰ کا طریقہ

پاکستان میں بیوہ کے وراثتی حقوق شریعت اور قانون دونوں میں واضح ہیں — اگر شوہر کی اولاد ہو تو بیوی کو ترکے کا آٹھواں حصہ (⅛) ملتا ہے، اور اگر اولاد نہ ہو تو چوتھائی (¼)۔ اس کے علاوہ بیوہ EOBI پینشن، سرکاری بینک کلیمز، شہداء پیکیج، اور وفاقی امدادی گرانٹ کی بھی حقدار ہے۔ لیکن بہت سی بیوائیں ان حقوق سے ناواقف ہیں یا خاندانی دباؤ کی وجہ سے دعویٰ نہیں کرتیں — یہ رہنما اسی مسئلے کو حل کرتا ہے۔

بیوہ کے شرعی وراثتی حصے

اسلامی شریعت (فقہ حنفی اور جعفریہ دونوں) میں بیوی کا وراثتی حصہ واضح ہے:

صورتحال بیوی کا شرعی حصہ عملی مثال
شوہر کی اولاد ہو ⅛ (آٹھواں حصہ) 80 لاکھ ترکے سے 10 لاکھ
شوہر کی اولاد نہ ہو ¼ (چوتھائی) 80 لاکھ ترکے سے 20 لاکھ
ایک سے زائد بیویاں ہوں ⅛ تمام بیویوں میں مساوی تقسیم 2 بیویاں = ہر ایک کو 1/16

اہم: شوہر کا گھر جائیدادِ ترکہ میں شامل ہے — بیوہ کا اس میں حصہ ہے۔ بعض خاندانوں میں بیوہ کو یہ بتایا جاتا ہے کہ "گھر بچوں کا ہے" — یہ شرعی اور قانونی طور پر غلط ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے (PLD 2024 SC 600) کے مطابق تمام وارثین کی جائیداد پر تعمیری حراست مانی جاتی ہے۔

بیوہ کے مالیاتی حقوق — وراثت سے ماورا

EOBI پینشن

اگر شوہر EOBI (Employees' Old-Age Benefits Institution) میں رجسٹرڈ تھا، تو بیوہ ماہانہ پینشن کی حقدار ہے۔ EOBI پینشن کی موجودہ شرح قانونی طور پر مقرر ہے اور بیوہ کو شوہر کی وفات کی تاریخ سے یہ حق حاصل ہوتا ہے۔ درخواست EOBI زونل آفس میں ڈیتھ سرٹیفکیٹ، شادی نامہ، اور شناختی کارڈ کے ساتھ جمع ہوتی ہے۔

منجمد بینک اکاؤنٹس

شوہر کے بینک اکاؤنٹس وفات کے بعد فوری منجمد ہو جاتے ہیں۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے قواعد کے تحت:

  • 1 لاکھ سے کم رقم: صرف انڈیمنٹی بانڈ (Surety Bond) سے جاری ہو سکتی ہے — جانشینی سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں
  • 1 لاکھ سے زائد: نادرا یا سول کورٹ کا جانشینی سرٹیفکیٹ لازمی ہے
  • قومی بچت اسکیمز: الگ کلیم فارم — نامزد شخص (Nominee) تنہا مالک نہیں بنتا بلکہ رقم تمام شرعی ورثا میں تقسیم ہوگی (سندھ ہائی کورٹ فیصلہ)

سرکاری ملازمین کا وفاقی پیکیج

اگر شوہر سرکاری ملازم تھا تو بیوہ کو درج ذیل حقوق حاصل ہیں:

  • پینشن: شوہر کی آخری پینشن کا ایک مخصوص فیصد
  • بینیفسنٹ فنڈ: جمع شدہ رقم بمع منافع
  • گروپ انشورنس: مقررہ رقم بلا تاخیر
  • وفاقی امدادی گرانٹ: مخصوص حالات میں اضافی مالی امداد

نجی لائف انشورنس

اگر شوہر نے لائف انشورنس پالیسی لے رکھی تھی تو بیوہ بطور نامزد یا بطور وارث کلیم کر سکتی ہے۔ TPL Life، EFU Life، اور State Life جیسی کمپنیوں کے کلیم فارم آن لائن دستیاب ہیں — ڈیتھ سرٹیفکیٹ، FIR (اگر حادثاتی موت ہو)، اور پالیسی دستاویزات درکار ہیں۔

بیوہ کے سامنے عام رکاوٹیں

خاندانی دباؤ: بہت سے خاندانوں میں بیوہ کو اس کے شرعی حصے سے دستبردار ہونے پر مجبور کیا جاتا ہے — "گھر بچوں کا ہے"، "تم نے مہر لے لیا تھا"، "عورتوں کو جائیداد نہیں ملتی"۔ یہ سب غلط ہے — شریعت اور قانون دونوں میں بیوہ کا حصہ واضح اور ناقابلِ تنسیخ ہے۔

معلومات کی کمی: بہت سی بیوائیں نہیں جانتیں کہ EOBI پینشن کیسے ملے گی، بینک اکاؤنٹ سے رقم کیسے نکلے گی، یا جائیداد میں اپنا حصہ کیسے وصول کریں۔

دستاویزات کی تیاری: نادرا، بینک، EOBI — ہر ادارے کے الگ فارم اور تقاضے ہیں۔ بغیر رہنمائی کے یہ سب سنبھالنا مشکل ہے۔

مفت ڈاؤن لوڈ

Pakistan — Funeral Planning Checklist حاصل کریں

اس پورے مضمون کی پرنٹ ہونے والی چیک لسٹ — ساتھ میں ایکشن پلانز اور حوالہ جاتی گائیڈز، جنہیں آپ آج ہی استعمال کر سکتے ہیں۔

عملی اقدامات — بیوہ کے لیے قدم بہ قدم

  1. فوری: شوہر کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ حاصل کریں (یونین کونسل سے)
  2. پہلے ہفتے: نادرا فیملی رجسٹریشن سرٹیفکیٹ اپ ڈیٹ کروائیں
  3. دوسرے ہفتے: نادرا جانشینی سرٹیفکیٹ کی درخواست دیں — آپ بطور وارث خود درخواست گزار بن سکتی ہیں
  4. ساتھ ساتھ: EOBI پینشن کی درخواست دائر کریں
  5. سرٹیفکیٹ ملنے پر: بینک کلیمز، قومی بچت کلیمز، انشورنس کلیمز
  6. آخر میں: جائیداد انتقال — اپنا شرعی حصہ ریکارڈ پر درج کروائیں

یہ رہنما کس کے لیے ہے؟

  • وہ بیوائیں جنہیں وراثت کے عمل کا کوئی تجربہ نہیں اور نہیں جانتیں کہ شروع کہاں سے کریں
  • وہ خواتین جو خاندانی دباؤ کے باوجود اپنے شرعی حقوق حاصل کرنا چاہتی ہیں
  • EOBI پینشن، سرکاری پیکیج، اور بینک کلیمز کے بارے میں معلومات حاصل کرنے والی بیوائیں
  • وہ بیوائیں جن کے شوہر بیرون ملک وفات پائے اور میت کی واپسی اور اثاثوں کی منتقلی دونوں درکار ہیں

یہ رہنما کس کے لیے نہیں ہے

  • وہ بیوائیں جن کا خاندانی تنازعہ عدالت میں پہلے سے زیرِ سماعت ہے — وکیل کی نمائندگی ضروری
  • جہاں شوہر نے واضح وصیت نامہ چھوڑا ہو جس پر تنازعہ ہو

مکمل رہنما حاصل کریں

جنازہ اور تدفین کا رہنما — پاکستان میں تجہیز و تکفین میں بیوہ کے تمام حقوق اور دعووں کا تفصیلی باب شامل ہے — EOBI پینشن فارم، بینک انڈیمنٹی بانڈ فارمیٹ، قومی بچت کلیم طریقہ، سرکاری پیکیج کی تفصیلات، اور خاص طور پر 90 روزہ ٹائم لائن جو بتاتی ہے کہ ہر ہفتے کیا کرنا ہے۔ صرف — ایک وکیل کی ابتدائی مشاورتی فیس سے بھی کم۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

کیا بیوہ کو شوہر کے گھر میں رہنے کا حق ہے؟

ہاں — شوہر کا گھر ترکے میں شامل ہے اور بیوہ کا اس میں شرعی حصہ ہے۔ جب تک وراثت کی تقسیم نہ ہو، بیوہ کو گھر سے نکالنا غیر قانونی ہے۔ سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا ہے کہ تمام وارثین کی تعمیری حراست (Constructive Possession) قائم رہتی ہے۔

EOBI پینشن کتنی ملتی ہے اور کیسے ملے گی؟

EOBI پینشن کی رقم شوہر کی خدمت کی مدت اور آخری تنخواہ پر منحصر ہے۔ درخواست EOBI زونل آفس میں ڈیتھ سرٹیفکیٹ، شادی نامہ، اور شناختی کارڈ کے ساتھ دائر ہوتی ہے۔ عام طور پر 4-8 ہفتوں میں پینشن شروع ہو جاتی ہے۔

کیا مہر لے لینے کے بعد بھی وراثت کا حق ہے؟

بالکل — مہر اور وراثت دو بالکل الگ حقوق ہیں۔ مہر شادی کا معاہدہ ہے جبکہ وراثت شوہر کے ترکے میں شرعی حصہ ہے۔ مہر لینے سے وراثت ختم نہیں ہوتی۔ کسی بھی خاندانی فرد کا یہ کہنا کہ "تم نے مہر لے لیا تو اور حق نہیں" شرعی اور قانونی طور پر غلط ہے۔

اگر شوہر بغیر وصیت وفات پائے تو بیوہ کا کیا حصہ ہے؟

وصیت کی موجودگی یا عدم موجودگی سے بیوہ کا شرعی حصہ متاثر نہیں ہوتا۔ اسلامی قانون کے تحت فرائض (مقررہ حصے) سب سے پہلے ادا ہوتے ہیں — وصیت صرف ترکے کے ⅓ تک کی اجازت دیتی ہے اور وہ بھی وارثین کے مقررہ حصوں کے بعد۔

بیوہ خود نادرا جا کر سرٹیفکیٹ بنوا سکتی ہے؟

ہاں — بیوہ بطور وارث نادرا جانشینی سرٹیفکیٹ کی درخواست گزار بن سکتی ہے۔ کسی مرد رشتہ دار کی اجازت یا موجودگی قانونی طور پر لازمی نہیں ہے۔ البتہ تمام وارثین کی بایومیٹرک تصدیق ضروری ہے۔

Pakistan — Funeral Planning Checklist مفت حاصل کریں

Pakistan — Funeral Planning Checklist ڈاؤن لوڈ کریں — چیک لسٹس، نمونوں اور ایکشن پلانز پر مشتمل پرنٹ ہونے والی گائیڈ، جسے آپ آج ہی استعمال کر سکتے ہیں۔

مزید جانیں →