$0 Pakistan — Estate Settlement Checklist

سکسیشن سرٹیفکیٹ پاکستان — نادرا اور عدالت سے حصول کا مکمل طریقہ کار

سکسیشن سرٹیفکیٹ پاکستان — نادرا اور عدالت سے حصول کا مکمل طریقہ کار

کسی عزیز کی وفات کے بعد بینک اکاؤنٹس، حصص، بانڈز یا دیگر منقولہ اثاثے حاصل کرنے کے لیے سکسیشن سرٹیفکیٹ قانونی طور پر لازمی ہے۔ بغیر اس دستاویز کے کوئی بینک آپ کو رقم نکلوانے نہیں دے گا، کوئی انشورنس کمپنی کلیم نہیں دے گی۔ مسئلہ یہ ہے کہ زیادہ تر خاندان تدفین کے بعد مہینوں تک کاغذی کارروائی میں تاخیر کر دیتے ہیں — جس سے اکاؤنٹس منجمد ہو جاتے ہیں اور جائیداد پر غیر قانونی قبضے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

نادرا کا تیز ترین راستہ: سکسیشن فیسیلیٹیشن یونٹ (SFU)

2025 کی ترمیم کے بعد نادرا اور سول کورٹس کو مساوی دائرہ اختیار حاصل ہے۔ غیر متنازع معاملات میں نادرا کا SFU سب سے تیز راستہ ہے — عام طور پر 15 سے 30 دنوں میں سرٹیفکیٹ جاری ہو جاتا ہے۔

پانچ بنیادی مراحل:

  1. درخواست: ایک وارث متوفی کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ اور فیملی رجسٹریشن سرٹیفکیٹ (FRC) لے کر نادرا یونٹ میں جمع کرواتا ہے۔
  2. اثاثوں کی تفصیلات: بینک اکاؤنٹس، حصص، بانڈز اور دیگر منقولہ اثاثوں کی تصدیق شدہ فہرست پیش کی جاتی ہے۔
  3. بایومیٹرک تصدیق: تمام قانونی ورثاء کا نادرا سنٹر جا کر بایومیٹرک تصدیق کروانا لازمی ہے۔
  4. اخباری اشتہار: نادرا 14 روزہ عوامی نوٹس شائع کرواتا ہے تاکہ کوئی اعتراض آ سکے۔
  5. سرٹیفکیٹ جاری: اعتراض نہ آنے پر فیس ادا کر کے سرٹیفکیٹ حاصل کریں۔

نادرا کی فیس اثاثوں کی مالیت کے مطابق مقرر ہوتی ہے — چھوٹے اسٹیٹس کے لیے عام طور پر 5,000 سے 15,000 روپے تک ہو سکتی ہے۔

سول کورٹ سے سکسیشن سرٹیفکیٹ کب ضروری ہے؟

تین صورتوں میں عدالت سے جانا لازمی ہو جاتا ہے:

  • ورثاء میں تنازع — کوئی وارث حصے پر اختلاف رکھتا ہو
  • نابالغ ورثاء — جن کی بایومیٹرک تصدیق ممکن نہ ہو
  • بیرون ملک مقیم وارث — جو پاکستان آ کر بایومیٹرک نہ دے سکے

سول کورٹ میں سکسیشن ایکٹ 1925 کے تحت پٹیشن دائر کی جاتی ہے۔ جج شواہد کی جانچ کے بعد سرٹیفکیٹ جاری کرتا ہے — مگر عدالتی تعطیلات اور کیس کی نوعیت کے لحاظ سے یہ عمل 6 ماہ سے 2 سال تک لے سکتا ہے۔

اوورسیز پاکستانیوں کے لیے خصوصی رہنمائی

بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے سکسیشن سرٹیفکیٹ حاصل کرنا سب سے مشکل ہوتا ہے۔ آپ کے پاس تین راستے ہیں:

  1. پاور آف اٹارنی: پاکستان میں کسی قابل اعتماد رشتہ دار کو مخصوص پاور آف اٹارنی دیں — یہ پاکستانی قونصلیٹ سے اٹیسٹ ہونی چاہیے۔
  2. نادرا آن لائن پورٹل: NICOP/POC ہولڈرز کچھ ابتدائی مراحل آن لائن شروع کر سکتے ہیں، مگر بایومیٹرک تصدیق کے لیے کسی نہ کسی مرحلے پر ذاتی حاضری ضروری ہو سکتی ہے۔
  3. سول کورٹ: اگر نادرا سے بایومیٹرک ممکن نہ ہو تو عدالت میں کارروائی کی جا سکتی ہے جہاں وکیل آپ کی نمائندگی کر سکتا ہے۔

ہزاروں ڈالر کے بین الاقوامی سفر سے بچنے کے لیے پاور آف اٹارنی والا راستہ سب سے عملی ہے — بشرطیکہ ورثاء کے درمیان کوئی تنازع نہ ہو۔

مفت ڈاؤن لوڈ

Pakistan — Estate Settlement Checklist حاصل کریں

اس پورے مضمون کی پرنٹ ہونے والی چیک لسٹ — ساتھ میں ایکشن پلانز اور حوالہ جاتی گائیڈز، جنہیں آپ آج ہی استعمال کر سکتے ہیں۔

ضروری دستاویزات کی چیک لسٹ

سکسیشن سرٹیفکیٹ کی درخواست سے پہلے یہ دستاویزات تیار رکھیں:

  • متوفی کا کمپیوٹرائزڈ ڈیتھ سرٹیفکیٹ (یونین کونسل سے)
  • متوفی کا CNIC (منسوخی کے لیے)
  • فیملی رجسٹریشن سرٹیفکیٹ (FRC)
  • تمام ورثاء کے CNIC کی کاپیاں
  • بینک اکاؤنٹس اور اثاثوں کی تفصیلات
  • نکاح نامہ (بیوہ کی صورت میں)

ہر دستاویز میں نام کی ہجے ایک جیسی ہونی چاہیے — نادرا ریکارڈ اور ڈیتھ سرٹیفکیٹ میں نام کا فرق سب سے عام تاخیر کی وجہ ہے۔

اگلا قدم

سکسیشن سرٹیفکیٹ صرف پہلا مرحلہ ہے — اس کے بعد بینک اکاؤنٹس کھلوانا، جائیداد کا انتقال، اور ٹیکس امور بھی طے کرنے ہوتے ہیں۔ مکمل وراثت و جائیداد تقسیم گائیڈ میں ہر مرحلے کی تفصیلی رہنمائی، دستاویزی ٹیمپلیٹس، اور فیسوں کا حساب شامل ہے۔

Pakistan — Estate Settlement Checklist مفت حاصل کریں

Pakistan — Estate Settlement Checklist ڈاؤن لوڈ کریں — چیک لسٹس، نمونوں اور ایکشن پلانز پر مشتمل پرنٹ ہونے والی گائیڈ، جسے آپ آج ہی استعمال کر سکتے ہیں۔

مزید جانیں →